بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں
”ارے یہ تو یہاں رکھا ہے پاندان میں“ دادی جان نے پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔”میں نے تو میز پر رکھا تھا۔یہاں کیسے آ گیا؟“
گھر بھر میں ہلچل کا سماں تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔گھر کا ہر فرد پریشان اِدھر سے اُدھر دوڑتا بھاگتا نظر آ رہا تھا۔تمام گھر والے ایک ہی چیز تلاش کر رہے تھے یعنی دادی جان کا چشمہ۔جب سے دادی جان کو بھولنے کی بیماری ہوئی تھی آئے دن وہ اپنی کوئی نہ کوئی چیز کہیں نہ کہیں رکھ کر بھول جاتی تھیں اور شامت آ جاتی تھی گھر بھر کی۔
کیونکہ جب تک وہ چیز مل نہ جائے دادی جان نہ خود سکون سے رہتیں اور نہ ہی کسی اور کو چین سے بیٹھنے دیتیں۔اور چشمہ تو اُن کے لئے بہت حساس اور نازک معاملہ تھا کیونکہ اس ضعیفی کے عالم میں بھی دادی جان اپنے بچپن کے شوق اور مشغلے کتب بینی کے بنا نہیں رہ سکتیں۔نزدیک کی نظر کمزور ہونے کی وجہ سے دادی جان پڑھنے کے لئے چشمہ لگاتی تھیں۔
صبح سویرے تلاوتِ کلام پاک اور اس کے بعد صبح ناشتے کے ساتھ تازہ اخبار پڑھنا دادی جان کا روزانہ کا معمول تھا
کل شب ہی تو اُنہوں نے اپنے چھوٹے سے کتب خانے سے نسیم حجازی کی کتاب ”خاک اور خون“ نکالی تھی جو آج اُن کو پڑھنی تھی۔آج صبح جب قرآنِ حکیم پڑھنے کے لئے دادی جان نے میز سے اپنا چشمہ اُٹھانا چاہا تو وہ اپنی جگہ موجود نہ تھا۔بس اُسی وقت سے چشمے کی تلاش جاری تھی۔گھر کے ہر کونے کی تلاشی لی جا رہی تھی۔مختلف افراد مختلف سمتوں میں چشمہ ڈھونڈ رہے تھے۔
حتیٰ کہ واشنگ مشین،فریج اور کپڑوں کی الماری تک میں چشمہ تلاش کر لیا گیا،امی نے تو باورچی خانے میں مصالحوں کی برنیوں تک میں چشمہ دیکھ لیا تھا۔پریشانی میں دادی جان کا بلڈ پریشر بڑھ گیا تھا جو اُن کی صحت کے لئے خطرہ تھا۔امی نے جلدی سے بلڈ پریشر کی دوا دے کر اُن کو آرام کرنے کو کہا لیکن تلاوتِ کلام پاک کے بغیر دادی جان کو بے چینی ہو رہی تھی جو سورتیں اُن کو زبانی یاد تھیں وہ پڑھ چکی تھیں اور پھر آج تو اُن کا قرآنِ پاک ختم ہونے والا تھا۔
دادی جان نے اعلان کر دیا کہ ”اگر چشمہ نہ ملا تو وہ آج ہی آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس جا کر آنکھیں ٹیسٹ کروا کر اپنا چشمہ بننے کو دیں گی“ ابا میاں نے تسلی دی کہ ان شاء اللہ بہت دیر سے گھبراہٹ میں چہل قدمی کرتی دادی جان بہت اُداس اور پریشان اپنے تخت پر آ کر بیٹھ گئیں۔دادی جان کی عادت تھی پان کی گلوری منہ میں ڈال کر مطالعہ شروع کرتیں۔
ابا میاں ہنس دیے ”یہ تو وہی بات ہو گئی“ ”بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں“ یہ سن کر گڈو میاں نے بے ساختہ کہا لیکن یہاں تو کہاوت ہی بدل گئی ”چشمہ پاندان میں تلاشی گھر بھر میں“ دادی جان جو چشمہ ملنے کے بعد پُرسکون ہو گئی تھیں ہنستے ہوئے کہنے لگیں ”واہ گڈو میاں بہت خوب“ دادی جان کو خوش دیکھ کر سارے گھر والے بھی بہت خوش تھے۔
.png)
0 Comments